8 دسمبر 2012 - 20:30

جرمنی نے ترکی کی سرحد پر پیٹریاٹ میزائل کی تنصیب کی اور اپنی افواج کی تعیناتی کی ترک حکومت کی درخواست قبول کرلی ہے۔

ابنا: جرمنی نے نیٹو کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس اور ترکی کے سرحدی علاقوں میں پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کی منظوری دینے کے بعد اس سلسلے میں اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے شام سے ممکنہ میزائل خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ درخواست کی ہے۔
جرمنی اور نیٹو کے دیگر رکن ممالک کی جانب سے ترکی کے سرحدی علاقے میں پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کے فیصلے نے علاقے کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں ایک نئي بحث چھیڑ دی ہے اور وہ یہ کہ کیا نیٹو کا یہ اقدام شام کے مقابلے میں ترکی کی دفاعی طاقت بڑھانے کے لیے ہے، جبکہ غیر ملکی طاقتیں خاص طور پر مغرب اور اس کے علاقائی اتحادی شام کے مخالفین کو نہ صرف سیاسی مدد فراہم کر رہے ہیں بلکہ ان کی ہر قسم کی مالی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ہتھیار بھی فراہم کر رہے ہیں اور اس طرح وہ نہ صرف شام کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ شام میں امن و امان کی صورت حال بھی خراب کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین ان تمام اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔ حتی کہ حال ہی میں نیٹو اور امریکہ نے شام کی حکومت کو مخالفین کے خلاف کیمیاوی اور جراثیمی ہتھیار استعمال کرنے کے سلسلے میں خبردار کیا ہے۔ شام کے حکام نے البتہ مغرب کے ان دعووں کو مسترد کیا ہے اور اسے شام کے خلاف مغرب کا ایک نیا سیاسی کھیل قرار دیا ہے۔
اس طرح ایسا لگتا ہے کہ بعض علاقائی اور علاقے کے باہر کی طاقتیں مخالفین اور علاقے کے بعض ممالک کے خلاف شامی حکومت کی دھمکیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے مشرق وسطی میں ایک نیا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں اور وہ شام کے داخلی بحران کو پہلے علاقائی بحران اور اس کے بعد اسے ایک بین الاقوامی بحران میں تبدیل کر کے شام میں فوجی مداخلت کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔
اسرائیل کے اخبار معاریو نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے اس قسم کا منصوبہ تیار بھی کر لیا ہے۔
اخبار اس سلسلے میں لکھتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے شام پر زمینی حملے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں اردن ترکی اور اسرائیل کے فوجی بھی شریک ہوں گے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے فوجی شام میں نوفلائی زون قائم کرنے کے لیے مذکورہ ممالک کی مدد کریں گے تاکہ اس طرح حملہ آور فوجیوں پر ایٹمی میزائل حملوں کو روکا جائے۔
اس بنا پر بعض سیاسی مبصرین شام کی سرحد کے قریب ترکی کے علاقے میں پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کو صہیونی ریاست کو میزائل حملوں سے بچانے کا ایک اقدام قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب ترکی اور اسرائیل کے تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک قدم بھی قرار دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ دونوں کے تعلقات آشکار و نہاں طور جاری رہے ہیں۔ البتہ ترکی کے اندر شام کے خلاف فوجی محاذ آرائی اور مغربی ملکوں کے ساتھ اس سلسلے میں گہرے تعاون پر عوامی اعتراضات سامنے آئے ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ترکی کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110